اقبال اور دورِ جدید

روایات کی افیون سے قرآنی حقائق کی بیداری تک
​کھلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی
گیا دورِ حدیثِ لن ترانی
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی
​حکیم الامت علامہ اقبال کی یہ رباعی محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ انسانی شعور کے ایک نئے عہد کا اعلان ہے۔ دورِ جدید میں جہاں علم و تحقیق کے دروازے کھل رہے ہیں، وہاں ضروری ہے کہ ہم اقبال کے ان اشارات کی تفہیم روایتی پردوں سے ہٹ کر براہِ راست قرآنِ کریم کی روشنی میں کریں۔
​”لن ترانی” اور من گھڑت روایات کا طلسم
​قرآنِ کریم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ مادی دنیا میں انسانی آنکھ خالقِ کائنات کے جلوے کی تاب نہیں لا سکتی۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
​لَّا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ (سورۃ الانعام: 103)
(آنکھیں اسے نہیں پا سکتیں اور وہ سب آنکھوں کو پا لیتا ہے)
​اس تناظر میں جب اقبال “دورِ حدیثِ لن ترانی” کے گزر جانے کی نوید دیتے ہیں، تو ان کی مراد وہ “لن ترانیاں” یا شیخیاں ہیں جو صدیوں سے دین کے نام پر من گھڑت روایات اور قصے کہانیوں کی صورت میں معاشرے میں رائج کر دی گئی ہیں۔ آج یہ روایات اپنی علمی حیثیت کھو رہی ہیں اور قرآنِ کریم کا اصل جوہر (جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے) نکھر کر سامنے آ رہا ہے۔
​خودی کی نمود اور منصبِ مہدی
​اس رباعی کا دوسرا حصہ ایک عظیم پیشگوئی پر مشتمل ہے کہ “جس کی خودی پہلے نمودار ہوئی، وہی مہدی ہو گا”۔ اس سے مراد وہ شخصیت یا گروہ ہے جو اپنی خودی کو قرآنی نظام کے سانچے میں ڈھال کر انسانیت کے لیے زندگی کا درست راستہ متعین کرے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ تبدیلی کا آغاز انسان کے اپنے اندر سے ہوتا ہے:
​اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ (سورۃ الرعد: 11)
(بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالیں)
​موروثی عقائد بمقابلہ قرآنی اصلاح
​افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم نے کلامِ الٰہی کو صرف تلاوت اور ثواب تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے علماء اور مشائخ کی اکثریت انہی فرسودہ تقریروں پر اکتفا کیے ہوئے ہے جو قوم کی غنودگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ ہم اس قدر موروثی رسموں میں جکڑے جا چکے ہیں کہ قرآن کی پکار کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پہلی اقوام کے زوال کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے آباؤ اجداد کی غلط روش کو دین بنا لیا تھا۔
​وقت کا تقاضا
​آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تحقیق اور تدبر کے ذریعے ان اسرار کو بے نقاب کریں جو قرآن نے انسانیت کی فلاح کے لیے بیان کیے ہیں۔ “آخرالبیان” کا پیغام یہی ہے کہ اب محض قصے کہانیوں کا دور ختم ہوا، اب علمی اور منطقی بنیادوں پر قرآنی نظامِ حیات کو نافذ کرنے کا وقت ہے، تاکہ انسانیت دوبارہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہو سکے۔
​تحقیق: محمد عقاب مصنف: آخرالبیان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Company

Our ebook website brings you the convenience of instant access to a diverse range of titles, spanning genres from fiction and non-fiction to self-help, business.

Features

Most Recent Posts

  • All Post
  • Akhar Ul Bayan
    •   Back
    • Akhar Ul Bayan Part1
    • Akhar Ul Bayan Part2
    • Akhar Ul Bayan Part3
    • Akhar Ul Bayan Part4

eBook App for FREE

Lorem Ipsum is simply dumy text of the printing typesetting industry lorem.

Category